ڈاکٹر ناجح ابراہیم کو ان سے انٹرویو لینے کا شرف حاصل ہوا۔۔ ہم نے سنا کی وہ بیمار ہیں تو ہم اور شیخ اسامۃ حافظ ان کی زیارت اوراطمنان حاصل کرنے کے لئے گئے۔ ہم نے ان کو بخیر و عافیت اور صحت مند پایا۔ ان سے سلام کیا اور ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔ہم ان کے پاس تقریبا ایک گھنٹہ ٹھہرے۔ وقت ایسے گزرگیا۔۔۔
محترمہ اسماء ذات الفوزین۔۔ ایمان کے ساتھ ایک دن جینے میں جو مزہ ہے سینکڑوں سال بغیر ایمان رہ کر جینے میں وہ مزہ نہیں، یقین نہ آئے تو کچھ وقت کے لیے مسلمان بن کر دیکھ لیں،میری آنکھ کھل گئی اور میرے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ کچھ روز کے لیے مجھے بھی مسلمان ہو کر دیکھنا چاہیے۔۔۔
انٹرویو اور پیشکش: ڈاکٹر ناجح ابراہیم۔۔ کیا ممکن ہے کہ اسلامی خلافت کا نظام دوبارہ واپس آئے؟۔ اور اگر یہ دوبارہ واپس آئیتو اس کی متوقع شکل کس طرح سے ہوگی؟۔ کیا آج کی موجودہ پیچیدہ ملکی اور بین الاقوامی صورتِ حال کے پیشِ نظر پرانی خلافتِ اسلامیہ کی شکل و صورت کی واپسی واقعی ناممکن ہے؟۔۔۔
انٹرویو پیش کردہ: سمیر عرکی۔۔ ہمارے انٹرویو کے اس حصے میں شیخ اسلام غمری اپنی کارکردگی و داد دھش کے نمونے کی روشن اوراق پر اپنی شہادت دے رہے ہیں۔ زمانہ بمشکل اس جیسی سخاوت کی زیادہ مثالیں پیش کر سکتا ہے۔ اپنا وطن، اہل و عیال، اعزاء و اقارب سب کو چھوڑ کر ہزاروں میلوں کا فاصلہ طے کرکے کمزور مسلم قوم کی مدد کو ترجیح دیا۔۔۔