English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: شہداء انقلاب شریعت کی نظر میں - حادثات -: مصرحجراسود کی طرح ہے اسے تنہا نہ اٹھاؤ - اپني مشکلات بتائيں -: رخصتی سے پہلے دوشیزاؤں کو میری نصیحت - جہاد کا حکم -: اندھا دھند دھماکے میزان میں - نخلستان اسلام -: لوگ آپ کی تکذیب کریں تو اس کا غم نہ کرو - موجودہ قضيے -: شرعی فرائض اور درپیش مسائل کے درمیان ہم آہنگی کیسے پیدا کریں؟۔ - نخلستان اسلام -: جب تمہارا دل فسق و فجور کا آماجگاہ ہو تو تقوی و پرہیزگاری کا اظہار نہ کرو - موجودہ قضيے -: جماعت اسلامی کی خواتین اور مبارک کے خلاف ان کا جہاد (1)۔ - مسلم خاندان -: جبر کے بجائے محبت - اپني مشکلات بتائيں -: بیوی کی موبائیل چھان بین کرنے کے بعد مجھے اس کی خیانت میں شک ہے۔۔۔ میں کیا کروں؟۔ - اپني مشکلات بتائيں -: مچھلی اپنے سر کی وجہ سے خراب ہوتی ہے - ہمارے بارے ميں -: ہماری دعوت ہمہ جہت ہے نہ کہ اسلامی معاشرے کے ساتھ ٹکراؤ کے لیے - نخلستان اسلام -: اسلام دین رحمت - موجودہ قضيے -: اسلام پسندوں اور دوسروں کے مابین مکالمے میں پیچیدگیاں -  
ووٹ ديں
عرب قوموں کا اپنے حکمرانوں کے خلاف مظاہرہ کرنے کا سبب ہے؟۔
عرب قوم کے اندر دینی بیداری
عوام پر ظلم وزیادتی کی انتہاء
حکمرانوں کا امریکی اشارے پر چلنا
تمام مذکورہ اسباب
سابقہ را? عامہ
کتابيں -

۔(1) حاکمیت۔۔۔۔ شریعت اور حقیقت کے آئینے میں

تالیف کردہ: ڈاکٹرناجح ابراہیم۔۔۔ ہم ڈاکٹرناجح ابراہیم عبداللہ جو مصر کی جماعت اسلامی کی مجلس شوری کے اہم ممبران میں سے ہیں ان کی تالیف کردہ کتاب (حاکمیت۔۔۔ شریعت اور حقیقت کی نظر میں) کا جائزہ لیتے ہیں۔ فکری نظرثانی کے بعد جماعت اسلامی کی طرف سے جو کتابیں شائع ہوئیں ہیں ان میں یہ کتاب جدید ترین اورانوکھی سمجھی جاتی ہے جس کا تقریبا آٹھـ سالوں سے مصری نظام کے خلاف تشدد پر مبنی تمام کاروائیوں کو روکنے میں اہم کردار ہے۔ اس کو ہم نے تین قسطوں میں تقسیم کیا ہے۔ اس قسط میں ہم کتاب (حاکمیت) کے پہلے باب کا جائزہ لیں گے، جسے مصنف نے (نوجوانان امت کے نام اہم پیغام) کے نام سے موسوم کیا ہے، اس میں مصنف نے ان نمایاں اور اہم شبہات کا نہ صرف تذکرہ کیا ہے جنہیں تکفیر کے دعاۃ نے ابھارا ہے، بلکہ ان شبہات کا جواب بھی دیا ہے، اس طرح انہوں نے غلو و مبالغہ سے کا م لینے والے اور اہل بدعت سے قطع نظر عقیدہ اسلامیہ کی صحیح فہم و معرفت کا مکمل نظر یہ اجمالی طور پر پیش کیا ہے۔

صاحب کتاب اس باب میں اجمالی طور پر اپنا اسلوب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ہم نے انتہائی طورپراس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ یہ باب پیش کرنے میں نہایت ہی پختہ۔۔۔ اپنے مضمون میں نیا اور انوکھا، اسلوب (کلام) میں بہت ہی دلکش ہو، اور ساتھـ ہی ساتھـ ہم نے ایسے خشک و جامد اسلوب (اختیارکرنے) سے گریز کیا ہے جو عام طور پر عقیدہ کی کتابوں میں استعمال ہوتا ہے۔

اللہ کی طرف دعوت دینے والے: راہنما ہیں قاضی نہیں

اس فصل میں صاحب کتاب دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دینے والوں کا حقیقی مشن بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: اللہ رب العالمین کی طرف دعوت دینے والوں کا کام یہ نہیں کہ لوگوں کو اسلام سے خارج کریں اور ان پر کفرو فسق اور نفاق کا حکم لگا ئیں بلکہ ان کا فرض یہ ہے کہ مخلوق کو راہ راست کی طرف رہنمائی کریں اور ان کا ہاتھ پکڑکر ایسی جنت کی طرف لے جائیں جس کی وسعت زمین و اسمان کے برابر ہے۔۔۔ اور ان کا بنیادی کام قوموں کے زخموں میں مرہم لگانا اور نافرمان مسلمانوں کو دا‏‏‏ئرۂ اسلام میں دوبارہ واپس لانا ہے۔۔۔ پھر موصوف ان لوگوں کا ذکر کر تے ہیں جو لوگوں کے ساتھـ تشدد کا معاملہ کر تے ہیں اور اعلان حق کے دعویدار ان پر کفر اور نفاق کا الزام لگاتے ہیں۔

اس سلسلے میں اس بات کی وضاحت کر تے ہوئے فرماتے ہیں کہ: اعلان حق کا قطعا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کسی مسلمان کو کہیں اے فاسق! یا اے فاجر! یا اے بدعتی! کیونکہ یہ اسلوب انسان کو حق سے متنفر کرتا ہے اور اس کی تصویرکو مسخ کرتا ہے بلکہ اعلان حق کا مطلب لوگوں کے سامنے حق کو نرمی سے آسان و عام فہم بناکر پیش کرنا ہے اس طور پر کہ حق بات ان کے دلوں میں سرایت کر جائےاور اسی کے ذریعہ کسی بھی شخص کو تکلیف پہنچائے بغیریا کسی کو لعن طعن کئے بغیر ان کی عقل و خرد بھی مطمئن ہوجائے۔

جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو وہ نجاست کا اثر قبول نہیں کرتا

زیر نظر عنوان میں صاحب کتاب نے اہل علم و فضل کے خلاف بعض مسلم نوجوانوں کی دست درازیوں کا علاج پیش کرتے ہوئے مؤلف کہتے ہیں کہ: بہت افسوس کی بات ہے کہ کچھـ کم سن نوجوان پابندی کے ساتھـ بعض اصحاب علم و فضل کے خلاف طعن و تشنیع کر تے ہیں، ان کی شخصیتوں کو مجروح کرتے ہیں، انہیں ہمیشہ غصے کی نظروں سے دیکھتے ہیں، ان کے عیوب و برائیوں کو ہمیشہ موضوع گفتگو بناتے ہیں۔۔۔ یہاں صاحب کتاب نے اہل علم فضل کے ساتھـ اچھی طرح پیش آنے کے آداب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ: اسلام کی خاطر جنہوں نے بہت ساری خدمات انجام دیئے ہوں اور جن کی تاریخ عظیم کارناموں سے پر ہو ان کے حق میں ضروری ہے کہ ان کی معمولی غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے، پھر صاحب کتاب قدیم و جدید مسلم اصحاب علم و فضل کی مثال پیش کر تے ہیں جیسے قدیم علماء کرام میں امام ابو حنیفہ النعمان (رحمہ اللہ) کی ذات گرامی ہے اور جدید علماء کرام میں شیخ شعراوی (رحمہ اللہ)، قاری عبد الباسط عبد الصمد (رحمہ اللہ) اور شیخ یوسف قرضاوی (حفظہ اللہ) ہیں، صاحب کتاب ان جیسی عظیم ہستیوں کے خلاف گستاخی کرنے کو سرکشی، ڈھٹائی اور احسان فراموشی قراردیتے ہیں اور حسن اخلاق و سیلم طبیعت کا حامل انسان خود اس عمل کو ناپسند کرے گا۔۔۔ تاہم اگر(کوئی شخص) انصاف کے ساتھـ کچھـ کہے تو یہی کہے گا کہ اتنے سارے خدمات کی موجودگی میں ایسے چند لغزشات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔۔ (کیونکہ) چھوٹی چھوٹی لغزشات اتنے سارے نیکیوں کے سامنے کچھـ بھی اثرانداز نہیں ہو سکتیں ہیں۔

پھرصاحب کتاب نوجوانان اسلام کو متنبہ کرتے ہوئے اعلان کر تے ہیں کہ انہیں اصحاب علم و فضل کے خلاف طعن و تشنیع کر نے سے احتیاط کر نا چاہیے، کیو نکہ وہ اللہ کے دوست و ولی ہیں۔۔۔ اگر یہ لوگ اللہ رب العالمین کے اولیاء نہیں ہیں تو پھر(ان کے علاوہ) اور کون ہو سکتا ہے؟!! یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے دین کی خاطر اپنی عمر، وقت اور مال کی قربانی فقط اللہ کے پرچم کو بلند کرنےاور شریعت اسلامیہ کو پھیلانے کے لئے دی ہے، چنانچہ ہمارے نوجوانوں کے سامنے ہمیشہ یہ حدیث قدسی رہنی چاہیے (من عادى لي ولياً فقد آذنته بالحرب) (صحيح البخاري:6137)۔ جس نے میرے دوست کے ساتھـ دشمنی کی تو میں ان کے خلاف اعلان جنگ کر تا ہوں۔

دین کی پابندی کا مطلب مسلمانوں کی تکفیر نہیں۔۔۔

کاتب مو صوف نے اس عنوان کے تحت اہل اسلام پرمطلقا کفر کاحکم لگانے کے انجام سے با خبرکیا ہے اسلئے کہ یہ تمسک بالدین کے صحیح معنی کی صاف مخالفت ہے،چنانچہ وہ فرماتےہیں کہ حقیقی دینداری کا مطلب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو بغیرکسی شرعی عذر کے کا فر یا فاسق یا بدعتی قرار دینا نہیں ہے اور دین پر صحیح طریقے سے پابندی کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اپنی زبان کو بے لگام کرکے ملت کے افراد پر اس طرح کا حکم لگایا جائے۔

 پھر مولف نے اس سلسلے میں نبی پاک صلى الله عليه وآلہ و سلم کی بعض تنبیہات کو نقل کیا ہے وہ فر ماتے ہیں کہ نبی پاک صلى الله عليه وآلہ و سلم نے مسلمان پر ناحق کفر کا الزام لگانے کو اسے قتل کرنے کے مترادف قرار دیا ہے چنانچہ آپ صلى الله عليه وسلم اپنی امت کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ (جس نے کسی مومن پر کفر کا الزام لگایا تو وہ اس کے قاتل کے حکم میں ہے) (سنن الترمذي:2636)؛ اس سے زیادہ قوی و بلیغ تنبیہ اور کیا ہو سکتی ہے؟ کیا کسی معصوم وبے گناہ مسلمان پر بے بنیاد کفر کا الزام لگانا حالانکہ وہ اس سے بری ہے ادبی اور نفسیاتی قتل نہیں ہے؟!، کیا اس کی تکفیر کرنا اس کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ نہیں ہے، جہاں بھی جائے گا وہ کلنک اس کے ساتھ ہوگا؟!۔ پھر کاتب فرماتے ہیں کہ: جب شکوک و شبہات کی بنیاد پرحدود ختم ہو جاتے ہیں، باوجود یکہ یہ کم خطرناک اورکفر سے معمولی درجے کی چیز ہے تو کیسے ایک بڑی چیز (جیسے کفر کا حکم لگانا) کا مطلقا حکم لگا سکتے ہیں جس پر جان ومال کو مباح قرار دئے جانے والے نتائج مرتب ہو تے ہیں؟!، کیا وہ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ ادنی شبہ کی بنیاد پر ا سے اس حکم سے بری رکھا جائے؟۔

دین کے واجبات کو ترک کرنا نافرمانی ہے۔۔۔ کفر نہیں۔۔۔

مصنف تکفیر کے باطل دعوی اور کھوٹے پن کو واضح کر تے ہوئے مزید فرماتےہیں کہ تکفیر کے فتوے لگانے والوں کا یہ دعوی ہے کہ اگر کو ئی مسلمان گناہ کرتا ہے، یا واجب ہو نے کا اعتراف کر تے ہوئے بھی واجبات میں سے کسی واجب کو ترک کرتا ہے تووہ اپنے دین سے خارج ہو جاتا ہے، یہ ایک ایسا دروازہ ہےجس سے تکفیر کی دعوت دینے والوں نے پوری امت کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا ہے، وہ آگے فرماتے ہیں کہ مسلمان صرف کسی واجب کے ترک کرنے سے کافر نہیں ہو تا جب تک وہ دل سے توحید کا اقرار کر نے والا اور زبان سے کلمہ شہادت ادا کر نے والا ہو، اور جب تک کہ وہ ان واجبات کے ترک کرنے میں اس کا انکار کرنے والا نہ ہو اور نہ ہی اس ترک کو حلال سمجھتا ہو۔ پھر وہ عقلی و منطقی انداز میں فرماتے ہیں کہ اگر اسلام فرائض کے کسی حصے کے تارک کو کافر قرار دیدے تب تو پورے کرۂ ارض میں کوئی مسلمان ہی باقی نہیں رہے گا، تو ایسا کوئی مسلمان نہیں ہے جو کتنا ہی متقی اور پرہیزگار ہی کیوں نہ ہو جو تمام واجبات کو ادا کرسکے اورتمام معاصی اور گناہ سے بچ سکے، اسی طرح کاتب گناہ کی وجہ سے مسلمانوں کی تکفیر کی عدم صحت،اسی طرح پرانے اور دروجدید کے خوارج کے مذہب کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ذنوب و معاصی کی وجہ سے مسلمانوں کی تکفیر شریعت کی روح کا انکار ہے، در حقیقت یہ اس قائدہ کے بھی خلاف ہے کہ اگر مسلمان صرف معاصی کی وجہ سے دائرے اسلام سےخارج ہو جاتا تو اس روئے زمین پر کوئی مسلمان باقی نہیں رہتا، کیا کوئی مسلمان ہے ایسا ہے جس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو یا کسی مسلمان کی غیبت نہ کی ہو؟۔

حجت قائم کر نا۔۔۔ نادان کو تعلیم دینا اور جو نسیان کے شکار ہیں انہیں یاد دہانی کرانا۔۔۔

 مصنف کتاب فرماتے ہیں اسلام نے مسلمانوں کی عزت و آبرو،ان کے دینی و دنیوی حقوق کی حفاظت پر زور دیا ہے، اسلئے کہ اسلام انصاف، رحمت اور احسان کا مذہب ہے وہ الزام و بہتان نہ لگاکر لوگوں کے لۓ ہمیشہ عذر تلاش کرتا ہے، اور کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے نزدیک اللہ کے عذر سے زیادہ کوئی عذر محبوب ہو، اسی وجہ سے انبیاء کرام مبعوث کئے گئے اور کتابیں نازل کی گئیں، اور اسی لئےشریعت نے کفر اور کفر کرنے والے کے درمیان فرق کیا ہے اور یہ متعین کیا کہ وہ فعل بذات خود کفر ہوسکتا ہے لیکن اس کے کرنےوالے کی تکفیر اس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اس کےخلاف حجت قائم نہ ہو جائے اور اس کے قول وفعل کے خلاف ایسا شرعی حکم نہ بیان کردیا جائے جو ہر طرح سے بالکل واضح اور عیاں ہو اس میں کسی طرح کی کوئی پیچیدگی نہ ہو۔

مولف محترم نے اس حجت کے حدود کو واضح کردیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ: نہ ہی ہر ایک کو حجت قائم کر نے کی اجازت ہے اور نہ ہر شخص فقط علم اور طلاقت لسانی کی بنیا د پر اس کا حق دار ہے بلکہ جو حجت قائم کر رہا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان ایک مقام اور وجاہت رکھتا ہو اور یہ اسے اس کی علمی بلندی کی بنیاد پر حاصل ہوا ہو نیز اس کے کلام میں اتنی تاثیر ہو کہ سننے والوں کے دل میں اتر جائے۔

 پھر مولف دعاۃ کی طرف نصیحت کرتے ہوئے متوجہ ہوتے ہیں کہ وہ ناحق تکفیری انارکی سے بچتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کریں جو کہ بنیادی طور پر حجت قائم کرنے کے معنی و مفہوم کی غلط فہمی سے پیدا ہوتی ہے۔۔۔ صاحب کتاب فرماتے ہیں کہ۔۔۔ بعض دعاۃ جب کسی مسجد میں خطبہ دیتے ہیں یا کسی کتاب کی تالیف کر تے ہیں یا کوئی میگزین شائع کرتے ہیں تو وہ اسے سمجھتے ہیں کہ حجت پوری کرلی اور لوگوں کے شکوک و شبہات ختم کردیئے حالانکہ بہت سارے لوگ نہ انہیں جانتے ہیں اور نہ ان کے خطبے سنے اور نہ ہی ان کی کتابیں پڑھیں بلکہ کبھی تو انہیں سرے سے دیکھے بھی نہیں ہوتے۔

پھر کاتب موصوف اتمام حجت اور دعوت الی اللہ کے درمیان حدود کو واضح کرتے ہوۓ فرماتے ہیں۔۔۔ ہاں کبھی یہ خطبے و مقالات دعوت الی اللہ کے ذیل میں شامل ہوتے ہیں اور اس کے ذریعہ مسلمان اللہ کی رضامندی کے حصول میں نصیحت کے فریضہ کو ادا کرنے پر قادر ہوتا ہے۔۔۔اور اس سے لوگوں پر کفر و وفسق کے فتوے مرتب نہیں ہو تے، جہاں تک حجت قائم کر نے کی بات ہے تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے اسے ہر آدمی قائم نہیں کر سکتا بلکہ لوگوں کے درمیان جو بہت اثر ورسوخ اور مقام و مرتبہ والا ہو وہی اس کا مستحق ہے اور اسی پر شرعی احکام بھی مرتب ہو تے ہیں۔۔۔لہذا اللہ کی طرف دعوت دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ دعوت کے حدود کو پابندی کریں اور غیر محل میں اس کا استعمال نہ کریں ورنہ دعوت کی محنت ضائع ہوجائے گی اور دین فساد اور بگاڑ کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔

اچھے اخلاق سے پیش آنا۔۔۔ نہ کہ ممنوع تعلقات رکھنا۔۔۔

اس عنوان کے ذیل میں کاتب نے فکر اسلامی کے موضوعات میں سے بہت ہی حساس اور پیچیدہ مسئلہ پر بحث کیا ہےاور یہ دوستی اور براءت کے اظہار کا مسئلہ ہے، یہاں مصنف نے بالعموم سارے لوگوں کے ساتھـ خوش اخلاقی کے ساتھـ معاملہ کرنے اور غیر مسلموں کے ساتھـ ناجائز دوستی و معاہدے کے درمیان باریک فرق کو بیان کیا ہے اور) جہاں تک خوش اخلاقی کے ساتھـ معاملہ کر نے کا تعلق ہے تو) اسلام نے عین اس کی دعوت دی ہے، وہ آگے فرماتے ہیں کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عموما غیر مسلموں کے ساتھـ اچھے معاملہ کرنا ناجائزدوستی کی ایک قسم ہے۔

اگر کوئی مسلمان کافر سے خندہ پیشانی کے ساتھـ ملتا ہے یا غیر مسلموں کے ساتھـ معروف و احسان کا معاملہ کرتا ہے۔۔۔ چنانچہ وہ ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی عیادت کرتے ہیں، یا ہدیہ دیتے یاقبول کرتے ہیں یا اس طرح کی دوسری چیزیں کر تے ہیں تو وہ مسلمان ولاء کی حقیقت کو نہیں سمجھتا ہے۔

 یہ ایک غلط نظریہ ہے جس میں ناجائزدوستی اوراچھے اخلاق کے ساتھـ پیش آنے کے معنی و مفہوم آپس میں خلط ملط ہو گئے ہیں باوجود یکہ ان دونوں کے درمیان زبردست دوری اور خلیج حائل ہے۔ وہ آگے فرماتے ہیں کہ واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کا حسن اخلاق۔ جیسا کہ بعض لوگ اس کے برعکس سمجھتے ہیں۔ اسلام کے لئے مفید و نفع بخش ہے اور یہ دین کی شان و شوکت کو مضبوط کرتا ہےنہ کہ کمزور،اور ترقی واشاعت اسلام کے جدید آفاق کو کھولتا ہے چنانچہ یہ دین اسلام کے لئے ایک سفیر کے درجے میں ہے اور ہم پورے حق بجانب ہیں کہ اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا مصر میں اسلام کے اشاعت میں مسلمانوں کے حسن اخلاق کا دخل نہیں ہے، جس سے مصری عیسائی قبطی متاثر ہو تے چلے گئے، اور کیا ہندوستان اور انڈونیشیا کے جزیرے اور ان کے علاوہ دوسرے ممالک جہاں تک مسلم تاجروں کے قدم پہنچے اسی حسن اخلاق کی وجہ سے دائرے اسلام میں داخل نہیں ہوئے؟۔

کیا غیر مسلموں سے محبت رکھنا ناجائزدوستی ہے؟۔۔۔

 پھر مصنف موصوف اس کے بعد ایک اورگنجلک و پیچیدہ مسئلہ پر بحث کر تے ہیں کہ غیر مسلموں سے مسلمانوں کے تعلقات جو کہ قلبی محبت پر مبنی ہو۔۔۔ اسی سلسلے میں اس غلطی کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ بالکل غلط سوچ ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھـ کسی بھی طرح کی محبت یہ ان سے ناجائز دوستی ہے۔ اس سلسلے میں وہ فرماتے ہیں کہ: بہت سارے مسلم نوجوانوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ غیر مسلموں سے کسی بھی طرح کی محبت در حقیقت ان سے صریح موالات کی دلیل ہے بلکہ بسا اوقات ایسا شخص دین سے مرتد و خارج ہوجاتا ہے۔۔۔ حالانکہ اس محبت کا مقصد غیر مسلموں کے دین سے محبت نہیں ہوتی ہے۔

پھر کاتب جائز و طبعی محبت اور ناجائزطور پر دلی دوستی کے درمیان دقیق فرق کے اصول و ضوابط کو بیان کر تے ہیں اور اس اس محبت کے پس پردہ کیا اہداف و مقاصد پوشیدہ ہیں یہ اصول و ضوابط اس کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کیونکہ بھلائی کا بدلہ دینا یا حسن اخلاق کا اظہارکرنا یا کوئی بھی اچھا عمل کرنا یہ تو اچھی طبیعت کے لوگ پسند ہی کرتے ہیں اور اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ محبت تو فطرت انسانی کی خصوصیات میں سے ہے اور شریعت اسلامیہ انسانی فطرت سے متصادم بھی نہیں ہے، لیکن اگر ان سے یہ محبت و تعلق صرف دین واعتقاد اورملت و شریعت کی وجہ سے ہو تو مصنف کے بقول یہ عقیدے میں عین خلل اوربگاڑ ہے۔۔۔ اور کاتب نےاپنے اس رجحان کو ثابت کرنے کے لئے فطری اور اعتقادی محبتوں کے درمیان تفریق کرنے کے چند دلائل نقل کئے ہیں، وہ فرماتےہیں کہ: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اسلام نے مسلمان کے لئے یہودی یا عیسائی عورت سے شادی کرنے کو جائز قراردیا ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ شادی کے بعد وہ اپنی بیوی سے اٹوٹ محبت کرے گا اور اس محبت کے اظہار میں زمین آسمان کے قلابے ملادے گا۔۔۔ یا کیا ایسا ہوگا کہ اس سے شادی کرنے کے بعد نفرت کرے گا؟!، (اور اگر ایسی بات ہے تو) پھر اس نفرت کے نتیجے میں ان کے لڑکوں کا کیا انجام ہوگا چنانچہ وہ عورت اس کے اولاد کی ماں ہوچکی ہوگی اور جب یہ ماں ہو گی تو یہ فطری بات ہے کہ وہ اپنی ماں سے محبت رکھیں گے بلکہ بسا اوقات تو ماں کی محبت مسلم باپ کی محبت پر غالب ہو جائے گی یہ ایک فطری میلان ہے جس میں کسی طرح کی کوئی تکلف اور ریاکاری نہیں۔۔۔ تو اب کیا شریعت اسلامیہ ایسی صورت میں اسے ماں کی محبت سے روک دے گی؟!، اور کیا یہ بات معقول ہے کہ اسلام ان لڑکوں کو اپنی ماں سے نفرت کر نے کا حکم دے گا جس نے اسے مادر رحم میں رکھا ہو اسے دودھ پلایا ہو اور اس کے آرام و راحت کے لئے طویل راتیں قربان کی ہو بلکہ ا س کے خون میں ماں کا خون سرایت کر گیا ہو اور یہی ماں اس بچے کے وجود کی باعث بنی ہو؟!، اور مصنف ان مثالوں کے بعد فرماتے ہیں کہ: اس سے مراد یہ ہے کہ مطلق یہ محبت دوستی کے ان صورتوں میں سے نہیں ہے جس کی غیر مسلموں کے ساتھـ گنجائش نہیں ہے۔

الحاكمية.. رؤية شرعية ونظرة واقعية - الحلقة الأولى UR



کتابيں -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت