|
یقینا اس میں بڑی عبرتیں ہیں بقلم: تراجی جنزوری۔۔ جس دن منصور خلیفہ مقرر کئے گئے اسی دن مقاتل بن سلیمان کا منصور کے پاس جانا ہوا۔۔۔ منصور نے مقاتل بن سلیمان سے کہا: اے مقاتل! ہمیں کچھـ نصیحت کرو۔
مقاتل بن سلیمان نے کہا: جو کچھـ ہم نے دیکھا ہے اس کی روشنی میں نصیحت کروں یا جو کچھـ ہم نے سنا ہے اس کی روشنی میں؟۔ منصورنے کہا: جو کچھـ تم نے دیکھا ہے اس کی روشنی میں نصیحت کرو۔ مقاتل بن سلیمان نے کہا: اے امیرالمؤمنین۔۔۔ عمربن عبدالعزیز کے پاس گیارہ (11) اولاد تھی، انہوں نے اٹھارہ (18) دینا بطور میراث چھوڑا، اس میں سے پانچ دینار میں ان کی تکفین ہوئی، چار دینار میں ان کے قبر کا انتظام ہوا، باقی دینار بطور میراث ان کے بچوں میں تقسیم کردیا گیا۔۔۔ گيارہ بچوں کے درمیان دو دینار۔۔۔ ہرہر لڑے کے حصہ میں پینتیس قرش آئے۔ دوسری طرف ہشام کو دیکھا کہ ان کو بھی اللہ نے گیارہ (11) اولاد سے نوازہ۔۔۔ ان کے بچوں کا حصہ میراث میں دس لاکھـ (1،000،000) دینار تھا۔۔۔ ان کی چار بیویوں میں سے صرف ایک کا حصہ اسّی ہزار(80،000) دینار تھا، یہ سب سازوسامان اور محلوں کے علاوہ تھا۔ بخدا! اے امیرالمؤمنین۔۔۔ ہم نے ایک ہی دن میں عمربن عبدالعزیز کی اولاد میں سے ایک کو دیکھا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے وہ سو(100) گھوڑے کا مالک ہے۔۔۔ اور ہشام کی اولاد میں سے ایک کو دیکھا کہ وہ راستوں میں لوگوں سے بھیک مانگتا پھر رہا ہے۔ (فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم) (النور:63): (سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے)۔ ان آخری دنوں میں مصر میں جو کھـ ہوا ہم میں سے ہرایک کے لئے مناسب ہے کہ وہ اپنے نفس کے تئیں تین طرح کا توقف کرے: 1. اپنے نفس کا محاسبہ کرنا۔ 2. اپنے آپ کی نگرانی کرنا۔ 3. اپنے آپ پر قابو کرنا۔ ہم سب لوگ خطا وار ہیں۔۔۔ بس تھوڑے بہت خطاؤوں میں کمی بیشی اور اس کی نوعیت میں اختلاف کے بعد ہم سارے لوگ وہی ہیں۔ لیکن وہ اللہ کا کرم اور اس کی مہربانی ہی ہے جو ہماری سترپوشی کررہی ہے اور اپنی نعمتوں سے ہم کو گھیرے ہوئے ہے۔۔۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اب تک ہم ذلیل و رسوا ہوجاتے۔ ہم میں اور ان میں فرق صرف اتنا ہے کہ اللہ رب العالمین نے ان کا پردہ فاش کردیا اور ہمارے اس قدر گناہ و معصیت کے باوجود بھی اللہ تعالی ہم کو اپنے رحمتوں سے ڈھاکے ہوئے ہے اور ہماری سترپوشی کئے ہوئے ہے۔ ہم میں سے ہرایک شخص کو چاہیئے کہ وہ اس بات سے ڈرے کہ کہیں اس کا پردہ نہ فاش ہوجائے اور ایسی صورت میں وہ بذات خود دوسروں کے لئے عبرت بن جائے۔۔۔ ہم اللہ رب العالمین سے اپنے لئے اور تمام لوگوں کے لئے دعاء گو ہیں کہ وہ سب کو محفوظ رکھے۔ ہم لوگوں نے کتنے گناہ کئے۔۔۔ کتنے معصیت کا ارتکاب کیا۔۔۔ کس قدر حدود سے تجاوز کئے۔۔۔ کتنے حرمتوں کی خلاف ورزی کی۔۔۔ اے سترپوشی کرنے والے ہمیں ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھـ ۔ (وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ) (النور:31): (اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ)۔ اللہ رب العالمین کا یہ قول (قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً) (الزمر:53): (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، بالیقین اللہ تعالی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے)۔ سلف صالحین میں سے کسی عالم نے اللہ رب العالمین کے اس قول کی تفسیر میں کہا ہے: یہ ندا ہے فرعون کے لئے جس نے کہا: (أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى) یہ نداء ہے قارون کے لئے جس نے کہا: (إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ عِندِي) یہ نداء ہے ہرنافرمانی کرنے والے کے لئے۔۔۔ یہ نداء ہے ان لوگوں کے لئے جس نے اللہ کے حرام کردہ چیزوں کی خلاف ورزی کی یا اللہ رب العالمین کی طرف سے متعین کردہ حد سے تجاوز کیا۔ لہذا یہ ان لوگوں کے لئے بھی نداء ہے جو لوگ قید میں تھے: (لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً)۔ کوئی بھی ہستی بندہ اور اس کے توبہ کے درمیان رکاوٹ نہیں بن سکتی ہے، اس کے اللہ کی طرف رجوع کرنے کے درمیان حائل نہیں ہوسکتی ہے۔۔۔ اور نہ ہی کوئی شخص اللہ کی رحمت کو صرف اپنے لئے خاص کرسکتا ہے۔ اللہ رب العالمین بہت ہی کریم ہے۔۔۔ تھوڑے سے عمل کو بھی قبول کرتا ہے اور بہت ساری لغزشات کو درگزر کردیتا ہے۔۔۔ وہ رات کو اپنا دست دراز کرتا ہے تاکہ دن کے گنہگاروں کی توبہ قبول کرے۔۔۔ دن کو اپنا دست دراز کرتا ہے تاکہ رات کے گنہگاروں کی توبہ قبول کرے۔ اس کی شرط ہے: حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: استغفراللہ العظیم۔ تو حضرت علی نے اس شخص سے کہا: تمہاری ماں تجھـ پر روئے، کیا تم جانتے ہو کہ استغفار کیا ہے؟ استغفار کے چھـ (6) معانی ہوتے ہیں: جو گناہ ہوچکا ہے اس پر "ندامت و شرمندگی"۔ جو فرائض ضائع ہوچکے ہیں ان کا "اعادہ"۔ جس پر ظلم کیا ہے اس کو اس کا حق واپس لوٹانا۔ اللہ کے خوف سے رونا۔ اس قدر روزہ رکھنا کہ جسمانی طور پر حرام کھانے کی وجہ سے جو نشو نما ہوئی ہے وہ سب پگھل کر ختم ہوجائے۔ دوبارہ گناہ نہ کرنے پر سچے دل سے نیت کرنا۔ ایسا کیا تو نجات مل جائے گی۔ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً UR
نخلستان اسلام -
|