English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: شہداء انقلاب شریعت کی نظر میں - حادثات -: مصرحجراسود کی طرح ہے اسے تنہا نہ اٹھاؤ - اپني مشکلات بتائيں -: رخصتی سے پہلے دوشیزاؤں کو میری نصیحت - جہاد کا حکم -: اندھا دھند دھماکے میزان میں - نخلستان اسلام -: لوگ آپ کی تکذیب کریں تو اس کا غم نہ کرو - موجودہ قضيے -: شرعی فرائض اور درپیش مسائل کے درمیان ہم آہنگی کیسے پیدا کریں؟۔ - نخلستان اسلام -: جب تمہارا دل فسق و فجور کا آماجگاہ ہو تو تقوی و پرہیزگاری کا اظہار نہ کرو - موجودہ قضيے -: جماعت اسلامی کی خواتین اور مبارک کے خلاف ان کا جہاد (1)۔ - مسلم خاندان -: جبر کے بجائے محبت - اپني مشکلات بتائيں -: بیوی کی موبائیل چھان بین کرنے کے بعد مجھے اس کی خیانت میں شک ہے۔۔۔ میں کیا کروں؟۔ - اپني مشکلات بتائيں -: مچھلی اپنے سر کی وجہ سے خراب ہوتی ہے - ہمارے بارے ميں -: ہماری دعوت ہمہ جہت ہے نہ کہ اسلامی معاشرے کے ساتھ ٹکراؤ کے لیے - نخلستان اسلام -: اسلام دین رحمت - موجودہ قضيے -: اسلام پسندوں اور دوسروں کے مابین مکالمے میں پیچیدگیاں -  
ووٹ ديں
عرب قوموں کا اپنے حکمرانوں کے خلاف مظاہرہ کرنے کا سبب ہے؟۔
عرب قوم کے اندر دینی بیداری
عوام پر ظلم وزیادتی کی انتہاء
حکمرانوں کا امریکی اشارے پر چلنا
تمام مذکورہ اسباب
سابقہ را? عامہ
اخبار -

حسنی مبارک مقدمہ آخری مرحلے میں

????? ?? بى بى سى - بدھ 22 فروری 2012

حسنی مبارک مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف چلنے والا مقدمہ چھ ماہ کی سماعت کے بعد آخری مرحلے میں داخل ہو گیا۔حسنی مبارک نے مقدمے کی سماعت کے دوران مظاہرین پر گولیاں چلانے کے احکامات جاری کرنے کی تردید کی تھی۔

واضح ر ہے کہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک گزشہ برس فروری میں ہونے والے مظاہروں کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے تھے۔

اس مقدمے میں حسنی مبارک اور دیگر مدعا علیہان کو جن میں ان کے سابق وزیرِ داخلہ حبیب اور چھ سینئیر پولیس افسران شامل ہیں مجرم قراد دینے کی صورت میں موت کی سزا ہو سکتی ہے۔

حسنی مبارک کے بیٹوں جمال اور اعلٰی کو اس مقدمے میں کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے۔

قاہرہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ حسنی مبارک کے خلاف چلنے والا مقدمہ گزشتہ سال اگست میں اس وقت اہمیت اختیار کر گیا جب تراسی سالہ حسنی مبارک نے دعویٰ کیا کہ وہ بہت بیمار ہیں اور عدالت کے سامنے پیش نہیں ہو سکتے اس لیے وہ سٹریچر کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔

حسنی مبارک کے خلاف چلنے والے مقدے کے چیف پراسیکیوٹر مصطفیٰ سلیمان نے پیر کو اپنے اختتامی ریماکس میں کہا کہ یہ مقدمہ دس یا بیس شہریوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں نہیں بلکہ پوری قوم کے بارے میں ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ ناممکن ہے کہ حسنی مبارک نے پولیس کو مظاہرین پر گولیاں چلانے کے احکامات جاری نہ کیے ہوں۔

واضع رہے کہ پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں آٹھ سو سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو ہزار ے زائد گواہوں کے، جس میں پولیس افسران بھی شامل ہیں، بیانات قلمبند کیے جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں اعلیٰ حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پولیس کو آٹو میٹک رائفلیں مہیا کی جائیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق متعدد مبصرین کو یقین ہے کہ حسنی مبارک کے خلاف چلایا جانے والا مقدمہ منصفانہ تھا تاہم استغاثہ کا کہنا ہے کہ انہیں اس مقدمے کے بہت اہم ثبوت تک رسائی نہیں دی گئی۔



اخبار -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت