English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  موجودہ قضيے -: شہداء انقلاب شریعت کی نظر میں - حادثات -: مصرحجراسود کی طرح ہے اسے تنہا نہ اٹھاؤ - اپني مشکلات بتائيں -: رخصتی سے پہلے دوشیزاؤں کو میری نصیحت - جہاد کا حکم -: اندھا دھند دھماکے میزان میں - نخلستان اسلام -: لوگ آپ کی تکذیب کریں تو اس کا غم نہ کرو - موجودہ قضيے -: شرعی فرائض اور درپیش مسائل کے درمیان ہم آہنگی کیسے پیدا کریں؟۔ - نخلستان اسلام -: جب تمہارا دل فسق و فجور کا آماجگاہ ہو تو تقوی و پرہیزگاری کا اظہار نہ کرو - موجودہ قضيے -: جماعت اسلامی کی خواتین اور مبارک کے خلاف ان کا جہاد (1)۔ - مسلم خاندان -: جبر کے بجائے محبت - اپني مشکلات بتائيں -: بیوی کی موبائیل چھان بین کرنے کے بعد مجھے اس کی خیانت میں شک ہے۔۔۔ میں کیا کروں؟۔ - اپني مشکلات بتائيں -: مچھلی اپنے سر کی وجہ سے خراب ہوتی ہے - ہمارے بارے ميں -: ہماری دعوت ہمہ جہت ہے نہ کہ اسلامی معاشرے کے ساتھ ٹکراؤ کے لیے - نخلستان اسلام -: اسلام دین رحمت - موجودہ قضيے -: اسلام پسندوں اور دوسروں کے مابین مکالمے میں پیچیدگیاں -  
ووٹ ديں
عرب قوموں کا اپنے حکمرانوں کے خلاف مظاہرہ کرنے کا سبب ہے؟۔
عرب قوم کے اندر دینی بیداری
عوام پر ظلم وزیادتی کی انتہاء
حکمرانوں کا امریکی اشارے پر چلنا
تمام مذکورہ اسباب
سابقہ را? عامہ
ہمارے بارے ميں -

اسلام میں قومیت کا تصور

جماعت اسلامى مصر۔۔ ہم سمجتے ہیں کہ وطن کی طرف نسبت اسلام سے نسبت کے منافی نہیں۔ بشرطیکہ یہ کچھ شرطوں سے مشروط ہو اور شرع حنیف کے نقش قدم پر ہو بلکہ ہماری رائے تو یہ ہے کہ اسلام کی طرف نسبت وطن سے ربط وتعلق کو تقویت پہنچانے کا کام کرتی ہے۔ اسلام قومیت کا انکار نہیں کرتا اور وہ ہے وطن سے محبت۔ اس کی تعمیر وترقی کے لئے کام کرتا ہے۔ اسے تقویت پہنچاتا ہے نیز اس کے مقدس مقامات کا بھرپور دفاع کرتا ہے اور اتنا ہی نہیں بلکہ اسلام اسے باور کراتا ہے اور اسے غذا پہنچاتا ہے اور ایسا اس بہترین رہنمائی اور بلند فکر وسوچ کے ذریعہ ہوتا ہے جو اسلامی منہح کے ان اصولوں کے مطابق ہو جن سے اس کی تکوین ہوئی ہے۔

صحیح اور سلیم انسانی نفس کو قدرتی طور پر اپنے اس وطن سے الفت ہوتی ہے جہاں اس کی پیدائش ہوئی ہو اور جس کے گہوارے میں اس نے نشور ونما پائی ہو خواہ وہ وطن بے آب وگیاہ صحرا یا خشکی کا شکار چٹیل میدان ہی کیوں نہ ہو۔ یہ وہ معتدل فطرت اور انسانی جبلت ہے جو انسانوں کے صحیح اور سلیم نفس میں پائی جاتی ہے۔ اس لئے ایسی شریعت اسلامی آئی جو فطرت سلیم کے مطابق ہے اور اس اخلاق حمیدہ سے متصف ہے جس میں نہ تو کسی قسم کا مبالغہ پایا جاتا ہے اور نہ ہی ریا کاری۔

قومیت اگر تعصب، انتہا پسندی اور ولایت وبراءت سے خالی ہو تو پھر یہ اسلامی فکر سے پوری طرح ہم آہنگ اور متفق ہے۔ ایسی صورت میں اسلام اور قومیت کے ما بین کسی قسم کا تضاد نہیں پایا جاتا۔

تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وطن، قوم یا قبیلے کے لئے تعصب ایمان کے رشتے یا دین کے رابطے کے حساب پر ہو اور یہ وہ چیز ہے جسے عقل وقلب دونوں ہی مسترد کرتے ہیں۔ دین اسے قبول نہیں کرتا اس لئے کہ وطن کوئی بھی ہو، کیسا ہی ہو مرد مومن کے دین اور اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہنے سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتا۔

قومیت کی سرحدوں کی بنیاد پر ولایت وبراءت کا عہد وعدہ صحیح نہیں ہے ولایت وبراءت کا عقد دین اور ایمانی اخوت کے رشتے سے منعقد ہوا کرتا ہے۔

ہمارا یہ ایمان ہے کہ سچا دین دار ہی صحیح طور پر وطن سے تعلق رکھنے والا اور قومی ہے یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے وطن کی مٹی کی حفاظت کے لئے قربانیاں دیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو وطن کی خیر وبھلائی کے لئے کام کرتے ہیں جبکہ قومیت کے بہت سے دعوے دار اپنے مفادات کی سرحدوں پر کھڑے رہ جاتے ہیں۔

ایمان کا مثبت پہلو جو فرد مسلم کو ان ترانی اور خوشنما بات چیت سے بچانے کا کام کرتا ہے وہ اسے قول کے ساتھ عمل پر اور تمنا کے ساتھ آگے بڑھ کر حقیقت واقعہ پر اور عیش کوشی سے نکال کر سرگرمی اور عمل کی طرف لے جاتا ہے ارشاد باری ہے (وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ) (التوبہ:105): (ان لوگوں سے کہو کہ تم عمل کرو۔ اللہ اور اس کا رسول اور مومنین سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل اب کیا رہتا ہے)۔

اسلام آسمانی وغیر آسمانی مذاہب میں وہ واحد مذہب ہے جس نے مسلمانوں کے وطنوں کو اولیت دی اور اس کی حفاظت کا غایت درجہ مؤثر اور عظیم الشان اہتمام کیا۔

پھر وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ چاہے خون بہایا جائے، جانیں جائیں، مال ودولت صرف ہو لیکن مسلمانوں کے وطن کا بالشت بھر حصہ بھی جارحیت کا شکار نہ ہو بلکہ سرزمین اسلام پر دشمن کے حملہ آور ہونے کی صورت میں ہر قدرت رکھنے والے پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ سارے کے سارے مسلمان خواہ وہ پیادہ ہوں یا سوار اس کی طرف ڈور پڑتے ہیں یہاں تک کہ وطن کا ذرہ ذرہ اس کے فرزندوں کی آغوش میں واپس آجائے۔

بر حق قومیت وہ ہے جس کا معنی ومفہوم دین اسلام سے نکلتا ہے۔ اور اس کی تعلیمات ہدایت کے مطابق لوگوں کے دلوں میں سرایت کر جاتی ہے۔ قومیت ایسا قولی سامان نہیں ہے جسے ہم باہر سے منگاتے ہیں جس طرح اپنی ضرورت کی دوسری چیز ہم امپورٹ (Import) کرتے ہیں۔ پھر ہم اس کی علتوں کے مطابق اس کی ترجمانی کرتے ہیں اور بغیر کسی معمولی اصلاح وتہذیب کے عقلوں کی طرف بڑھا دیتے ہیں۔

ہم قومیت کے مفہوم میں غلو کو نا پسند کرتے ہیں جو اسے دین کی حد بندیوں اور عقیدے کے رشتے سے اوپر اٹھا کر رکھ دے۔ اسی طرح ہم اسے بھی قبول نہیں کرتے کہ اس سلسلے میں غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا جائے یہ دعوی کرتے ہوئے کہ قومیت دین کے خلاف ہےاور نا حق تعصب کے مطابق یہ دونوں دعوے شاذ اور نا قابل قبول ہیں اور دین اسلام ان دونوں کے درمیان کی چیز ہے۔

فهمنا للوطنية في الإسلام



ہمارے بارے ميں -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت